SIO Malwani WELCOMES YOU......* A GRAND STUDENTS GATHERING , on 20th November 2011,(06.30pm to 09.00pm) @ Al-Flah High School, Gate No.8 Malwani...PLEASE ATTEND WITH FRIENDS ....* Peace Appeal By SIO......* Please check LABEL Section for more posts......* Follow us on Twitter, Blog, Facebook, Orkut, Google Group......Click here to read Tafheemul Qura'an on net in urdu.

Monday, August 1, 2011

Sadar -e-Tanzeem Ka Pigham



محترم صدر تنظیم کا خصوصی پیغام ….. رمضان – ہمارا مہمان


مہمانوں کا استقبال انسانی اخلاقیات کا ایک اہم جزو ہے۔مہمان کی بزرگی اور عظمت کے اعتبار سے استقبال میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ رمضان اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ہر سال ہمارے پاس مہمان ہی کی طرح آتا ہے اور ہم پر اپنے فضائل و برکات کے تحفوں کی خوب برسات کرتا ہے۔ بلاشبہ نیکیوں کا یہ موسم بہار ۔۔۔ اللہ رب العزت کی ہم پر خصوصی نعمت ہے۔


لیکن ساتھیو! کسی نعمت کا نصیب ہوجانازیادہ اہم نہیں۔ اس نعمت کا بھرپور اور کماحقہ استعمال ہی سچی سعادت مندی کی بات ہوتی ہے۔ہماری سعادت مندی یہی ہوگی کہ ہم اس ماہ مبارک کو خوب خوب غنیمت جانیں' اپنی ذات کو سب سے بڑھ کر Focus Area بنائیں اور ان ایام کو اپنی زندگی کے لئے ایک سنگ میل بنالیں۔


رمضان در اصل ایک ۳۰؍ روزہ مہم ہے جس کا مرکزی موضوع ''ذاتی ارتقاء '' (Self Development) ہے۔ ہرپہلو سے شخصیت میں نکھار ہی رمضان کاحاصل ہے۔ شخصیت سازی میں 'عادتوں ' کارول انتہائی اہم ہے۔ اچھی عادتوں کا اختیار کرنا اور بری عادتوں سے چھٹکارا پانا بڑی محنت اور مستقل مزاجی کا کام ہے۔ مسلسل مجاہدہ کے بغیر انسا ن کسی بھی چیزکا عادی نہیں بن سکتا۔ عام دنوں میں ''عادتوں کے لئے مجاہدہ '' بڑا مشکل ہوتا ہے ۔ رمضان عادت پیدا کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس رمضان میں ہم کم ازکم کسی ایک اچھی عادت کو پروان چڑھانے یا کسی ایک بری عادت سے بچنے (مثلا غصہ' جھوٹ' غیبت' نیند کی زیادتی' شہوانی خواہشات' نمازوں میں سستی' کنجوسی وغیرہ کمزوریوں پر قابوپانے )کا عزم کریں اور مسلسل مجاہدہ کے ذریعے اس سے بچنے کی عادت اس طرح اپنے اندر پیدا کرلیں کہ رمضان کے بعد طبیعت پوری طرح اس سے مانوس ہوجائے' اسی میں لذت محسوس ہو اور کسی قسم کی بیزاری کا احساس نہ ہو۔پس اپنی شخصیت کے کمزور پہلوؤں کو پہچانئے۔کمزوری۔۔ اخلاق وکردار کی ہو یا عبادات کی' مزاج کی ہو یا نفسانی خواہشات کی۔۔۔ ان کے ازالے کی بھرپور عادت اپنے اندر پیدا کریں۔واضح رہے کہ ان کمزوریوں پر قابو پائے بغیر ہمارا روزہ مکمل اور مثالی روزہ نہیں ہوسکتا۔


رمضان آرام کرنے اور وقت گزارنے کا مہینہ نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں! بھوکے پیاسے رہنے کا ایک مقصدمشکلات اور تکالیف کو برداشت کرنے کا مادہ پیدا کرنا بھی ہے۔ اس ٹریننگ کورس سے ہم تن آسانی کا نہیں بلکہ جفا کشی کا درس لیں۔ بسیار خوری' غیر ضروری رت جگا اور بے جا شاپنگ شیطان کے ان ہتھیاروں میں سے ہے جنہیں اس نے رمضان کی' نام نہاد رونق 'کے بہانے ہماری توجہات کو بھٹکانے کے لئے استعمال کیا ہے۔خدارا ان سے محتاط رہئے کہ یہ رمضان سے استفادہ کی راہ میں بڑی پرفریب رکاوٹیں ہیں۔صرف ''کلواواشربوا'' (کھاؤ پیو) پر عمل نہ ہو بلکہ ان قرآنی الفاظ سے جڑے اگلے لفظ '' ولا تسرفوا' ' (حد سے تجاوز نہ کرو) کا بھی لحاظ رہے۔ سحر کے اختتام پر' سنت قیلولہ ' کے نام پر سونا سب سے اہم مصروفیت نہ رہے بلکہ '' ان لک فی النہار سبحا طویلا'' (تمہارے لئے دن میں بہت مصروفیات ہیں ) کے قرآنی حکم کے تحت دن کا ایجنڈا طے کیا جائے اور مختلف تنظیمی و دعوتی کام انجام دئے جائیں۔ مشیت الہی کے تحت اسی ماہ میں غزوہ بدر اور فتح مکہ کے معرکے بھی انجام پائے۔اول الذکر سنگین حالات میں باطل سے اجتماعی مقابلے کا پہلا پروگرام تھا تو موخر الذکر غلبہ دین کی جدوجہد کی آخری کڑی۔گویا میدان عمل میں سخت جدوجہد کے لئے تیاری کا کام بھی رمضان ہی نے انجام دیا۔


آخری اور اہم بات یہ کہ ربانی کردار اور تقوی کو خوب پروان چڑھائیں۔ رمضان فی الواقع ماہ قرآن ہے۔ بیشتر وقت اسی کی صحبت میں گزاریں۔اس میں غوطے لگائیں۔ غور و تدبر کرکے حکمت کے موتی تلاش کریں اور اسے اپنا Everyday Guideبنائیں۔ نمازیں صف اولی میں تکبیر اولی کے ساتھ ادا ہوں۔ اعتکاف کے لئے وابستگان کو ترغیب دلائی جائے۔نالۂ نیم شبی اور آہ سحر گاہی بھی ہو۔ روزوں کی فرضیت کی آیت کے بعداس کے تفصیلی احکام سے پہلے ایک اہم آیت ہے۔۔۔ ''میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے'' (البقرۃ: ۱۸۶)۔۔۔کون بد بخت ہے جو اپنی جھولی کو بھرنا نہ چاہے؟؟؟


ساتھیو! بارش چٹان پر بھی ہوتی ہے اور نرم زمین پر بھی۔چٹان کاپانی بہہ جاتا ہے اور نرم زمین فصل لاتی ہے۔ دل اورضمیر جس کا جتنا بیدار اور زرخیز ہوتا ہے ' رمضان سے استفادہ بھی اسی تناسب سے ہوتا ہے۔رمضان کے تئیں اپنے نفس کو خوب زرخیز بنائیے۔ گھر آئے اس عظیم اور بزرگ مہمان کا پرجوش اور والہانہ استقبال کیجئے۔ اس کے تحفوں کو سمیٹئے اور ''شخصیت سازی'' کی اس ۳۰؍ روزہ مہم سے اپنے اندر ایک نئے فرد کی دریافت کیجئے۔۔۔۔۔۔۔

محممد اظہرالدین (صدر تنظیم